صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۶ - عذاب قبر سے پناہ
عذاب قبر سے پناہ کی حدیث: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
صحیح بخاری : ۱۳۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۷۶
حَدَّثَنَا مُعَلًّى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي ابْنَةُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، " أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
´ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا۔ کہا کہ مجھ سے خالد بن سعید بن عاص کی صاحبزادی (ام خالد) نے بیان کیا ‘` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے سنا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۶ کا خلاصہ
یہ روایت بہت مختصر ہے مگر اس کا پیغام بہت واضح ہے۔ ام خالد رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے سنا۔ اس حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، لیکن ایک عملی بات سامنے آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں یہ بات شامل ہے، تو ایک مسلمان کے لیے بھی یہ دعا اہم ہے۔ عذاب قبر سے پناہ مانگنا صرف خوف کی بات نہیں، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کرنے کا طریقہ ہے۔ انسان اپنی کمزوری مانتا ہے اور اللہ سے حفاظت طلب کرتا ہے۔ اس روایت کی سادگی ہی اس کا بڑا سبق ہے: دعا کریں، اللہ سے پناہ مانگیں، اور قبر کے معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔
- مختصر دعا بھی بہت اہم دینی سبق دے سکتی ہے۔
- قبر کے عذاب سے حفاظت اللہ ہی سے مانگنی چاہیے۔
