صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۵ - قبر میں عذاب کی آواز
قبر میں عذاب کی حدیث: عذاب قبر کے واقعے کا بیان
صحیح بخاری : ۱۳۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۷۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , قَالَ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، فَسَمِعَ صَوْتًا , فَقَالَ : يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا " ، وَقَالَ النَّضْرُ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْنٌ ، سَمِعْتُ أَبِي , سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا کہ مجھ سے عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد ابوحجیفہ نے، ان سے براء بن عازب نے اور ان سے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے گئے، سورج غروب ہو چکا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آواز سنائی دی۔ (یہودیوں پر عذاب قبر کی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی پر اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ اور نضر بن شمیل نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی، ان سے عون نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ ابوحجیفہ سے سنا، انہوں نے براء سے سنا، انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے گئے، سورج غروب ہو چکا تھا، اس وقت آپ نے ایک آواز سنی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی پر اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ روایت مختصر ہے، اس لیے اس سے وہی بات لی جانی چاہیے جو اس میں صاف موجود ہے: قبر کا عذاب ایک حقیقی معاملہ ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاص آواز کے بارے میں بتایا کہ یہ قبر کے عذاب سے متعلق ہے۔ یہ حدیث انسان کو آخرت کے معاملے میں سنجیدہ کرتی ہے۔ اس میں نہ عام قصے گھڑنے کی ضرورت ہے، نہ اپنی طرف سے تفصیل بڑھانے کی۔ اصل سبق یہی ہے کہ قبر کے عذاب سے پناہ مانگی جائے اور اللہ سے ڈر کر زندگی گزاری جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عذاب قبر کا ذکر حدیث میں واضح طور پر آیا ہے۔
- ہر مختصر روایت میں اپنی طرف سے تفصیل بڑھانا درست نہیں۔
- قبر کے عذاب سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
