صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۴ - قبر کے سوالات اور ایمان کا جواب
قبر کے سوالات کی حدیث: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جواب
صحیح بخاری : ۱۳۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۷۴
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا ، قَالَ قَتَادَةُ : وَذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسٍ , قَالَ : وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْكَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ ، فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور جنازہ میں شریک ہونے والے لوگ اس سے رخصت ہوتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہوتا ہے کہ دو فرشتے (منکر نکیر) اس کے پاس آتے ہیں ‘ وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ مومن تو یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جائے گا کہ تو یہ دیکھ اپنا جہنم کا ٹھکانا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں تمہارے لیے جنت میں ٹھکانا دے دیا۔ اس وقت اسے جہنم اور جنت دونوں ٹھکانے دکھائے جائیں گے۔قتادہ نے بیان کیا کہ اس کی قبر خوب کشادہ کر دی جائے گی۔ (جس سے آرام و راحت ملے) پھر قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرنی شروع کی ‘ فرمایا اور منافق و کافر سے جب کہا جائے گا کہ اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا تھا تو وہ جواب دے گا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں ‘ میں بھی وہی کہتا تھا جو دوسرے لوگ کہتے تھے۔ پھر اس سے کہا جائے گا نہ تو نے جاننے کی کوشش کی اور نہ سمجھنے والوں کی رائے پر چلا۔ پھر اسے لوہے کے گرزوں سے بڑی زور سے مارا جائے گا کہ وہ چیخ پڑے گا اور اس کی چیخ کو جن اور انسانوں کے سوا اس کے آس پاس کی تمام مخلوق سنے گی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۴ کا خلاصہ
یہ حدیث قبر کے سوالات کے بارے میں تفصیل سے بتاتی ہے۔ جب بندہ قبر میں رکھا جاتا ہے اور لوگ واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تم اس شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ مومن جواب دیتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر اسے جہنم کا ٹھکانا دکھا کر بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے اس کے بدلے جنت میں ٹھکانا دیا ہے۔ منافق یا کافر کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ پھر اس کے لیے سخت عذاب کا ذکر ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ایمان صرف زبان کی عادت نہیں، بلکہ سچا اعتقاد ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوال کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- مومن کا جواب ایمان اور گواہی پر مبنی ہوتا ہے۔
- لوگوں کی نقل کرنا کافی نہیں، دین کو جاننا اور ماننا ضروری ہے۔
