صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۳ - قبر کا امتحان
قبر کے امتحان کی حدیث: فتنة القبر کا سنجیدہ ذکر
صحیح بخاری : ۱۳۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۷۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , تَقُولُ : " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ، فَذَكَرَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ الَّتِي يَفْتَتِنُ فِيهَا الْمَرْءُ ، فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً " .
اسماء بنت ابی بکر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے امتحان کا ذکر کیا جہاں انسان جانچا جاتا ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ذکر کر رہے تھے تو مسلمانوں کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کا ذکر ہے۔ آپ کھڑے ہوئے اور قبر کے امتحان کا بیان فرمایا، جہاں انسان کو جانچا جاتا ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی تو مسلمانوں کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر اثر بہت گہرا ہے۔ اس میں قبر کے امتحان کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے ہمیں اسی حد تک بات کرنی چاہیے جتنی روایت میں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام عذاب قبر اور قبر کے سوال جیسے موضوعات کو ہلکا نہیں لیتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے امتحان کا ذکر فرمایا تو ان کے دل متاثر ہوئے۔ یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آخرت کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبر کا امتحان ایک سنجیدہ حقیقت ہے جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- صحابہ آخرت کی بات سن کر دل سے متاثر ہوتے تھے۔
- قبر کے معاملے میں بےفکری کے بجائے فکر اور احتیاط ہونی چاہیے۔
