صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۹ - قبر میں ٹھکانا دکھایا جانا

قبر میں ٹھکانا دکھائے جانے کی حدیث: جنت یا دوزخ کا انجام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۷۹

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ , وَالْعَشِيِّ ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَيُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں موت کے بعد کے ایک حال کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اسے صبح و شام اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں سے اس کا مقام دکھایا جاتا ہے، اور اگر دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں سے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھے اٹھائے گا۔ اس حدیث میں قبر کے بعد برزخ کے حال کی ایک جھلک ملتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کا انجام چھپا نہیں رہتا، بلکہ موت کے بعد اسے اپنے ٹھکانے کی خبر دی جاتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں آخرت کی تیاری کی یاد دلاتی ہے، مگر اسی حد تک جس حد تک الفاظ میں بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مرنے کے بعد انسان کو اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے۔
  • جنتی اور دوزخی کے انجام کا فرق حدیث میں بیان ہوا ہے۔
  • قیامت کے دن اٹھائے جانے تک یہ معاملہ جاری رہتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں