صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۸ - میت کی طرف سے صدقہ کرنے کی حدیث
میت کی طرف سے صدقہ: ماں کے لیے صدقہ کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۳۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۸۸
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا ، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ , قَالَ : نَعَمْ " .
عائشہ روایت:
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ملے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع میت کی طرف سے صدقہ ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا، اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرتیں۔ اس نے پوچھا کہ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا انہیں ثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ حدیث کا پیغام بہت صاف ہے کہ اس خاص صورت میں ماں کی طرف سے صدقہ کرنا مفید بتایا گیا۔ اس سے ماں باپ کے لیے خیر خواہی اور صدقہ جاریہ جیسے الفاظ بھی لوگوں کے ذہن میں آتے ہیں، مگر یہاں اصل بات صدقہ کے اجر کی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میت کی طرف سے صدقہ کرنے کے بارے میں حدیث میں اجازت کا ذکر ہے۔
- والدین کے لیے خیر خواہی موت کے بعد بھی ممکن ہے۔
- سوال کرنے والے نے اپنی ماں کی نیت کے بارے میں غالب خیال بیان کیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے مختصر جواب میں بتایا کہ صدقہ کا اجر ماں کو ملے گا۔
