صحیح بخاری حدیث ۱۳۹۰ - قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے ممانعت
قبروں کو مسجد بنانے کی حدیث: توحید کی حفاظت
صحیح بخاری : ۱۳۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۹۰
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ هِلَالٍ هُوَ الْوَزَّانُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ، لَوْلَا ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ أَوْ خُشِيَ أَنَّ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا " ، وَعَنْ هِلَالٍ , قَالَ : كَنَّانِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَلَمْ يُولَدْ لِي .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض کے موقع پر فرمایا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانبر نہ ہو سکے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی یہود و نصاریٰ پر لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی کھلی رہنے دی جاتی۔ لیکن ڈر اس کا ہے کہ کہیں اسے بھی لوگ سجدہ گاہ نہ بنا لیں۔ اور ہلال سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر نے میری کنیت (ابوعوانہ یعنی عوانہ کے والد) رکھ دی تھی ورنہ میرے کوئی اولاد نہ تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قبروں کو عبادت گاہ بنانے سے بچنا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری مرض میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہود و نصاریٰ پر لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ پھر حدیث میں یہ بات آتی ہے کہ اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھلی رہنے دی جاتی، مگر اندیشہ تھا کہ کہیں اسے بھی سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے۔ یہ حدیث توحید، قبروں کے آداب، اور عبادت کو صرف اللہ کے لیے رکھنے کا صاف پیغام دیتی ہے۔ اس میں سخت الفاظ اسی عمل سے بچانے کے لیے آئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانا سختی سے منع کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آخری مرض میں بھی توحید کی حفاظت کی بات فرمائی۔
- آپ صلى الله عليه وسلم کی قبر کے بارے میں احتیاط اسی اندیشے کی وجہ سے تھی۔
- عبادت کا تعلق صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونا چاہیے۔
