صحیح بخاری حدیث ۴۳۵ - انبیاء کی قبروں کو مسجد بنانے سے ڈرایا گیا
انبیاء کی قبروں کو مسجد بنانے کی ممانعت: آخری بیماری کا اہم فرمان
صحیح بخاری : ۴۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَا : لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " وَهُوَ كَذَلِكَ ، لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا " .
عائشہ اور عبداللہ بن عباس روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو باربار چہرے پر ڈالتے۔ جب کچھ افاقہ ہوتا تو اپنے مبارک چہرے سے چادر ہٹا دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اضطراب و پریشانی کی حالت میں فرمایا، یہود و نصاریٰ پر اللہ کی پھٹکار ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما کر امت کو ایسے کاموں سے ڈراتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۵ کا خلاصہ
یہ حدیث نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے مرض الوفات کے وقت کا ایک بہت اہم فرمان بیان کرتی ہے۔ عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جب آپ صلى الله عليه وسلم مرض الوفات میں مبتلا تھے تو چادر اپنے چہرے پر ڈالتے، اور جب گھٹن محسوس ہوتی تو چہرے سے ہٹا دیتے۔ اسی حالت میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی پھٹکار ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ حدیث کے آخر میں صاف ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم اپنی امت کو ایسے کاموں سے ڈرا رہے تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع قبروں کو مسجد بنانے کی ممانعت ہے۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ یہ فرمان بیماری کی سخت حالت میں بھی بیان ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء کی قبروں کو مسجد بنانے سے نبی صلى الله عليه وسلم نے سختی سے ڈرایا۔
- یہ بات مرض الوفات کی حالت میں فرمائی گئی، اس لیے اس کی اہمیت واضح ہے۔
- حدیث میں امت کو پچھلی قوموں کے عمل سے بچانے کا ذکر ہے۔
- قبر اور مسجد کو ملانے کے معاملے میں احتیاط کا سبق ملتا ہے۔
