صحیح بخاری حدیث ۴۲۷ - قبروں پر مسجد بنانے کی ممانعت
قبروں پر مسجد بنانے کی حدیث: تصاویر اور عبادت گاہوں کا سخت سبق
صحیح بخاری : ۴۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ ، فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
عائشہ روایت:
ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تو اس میں مورتیں (تصویریں) تھیں۔ انہوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار (نیک) شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی مورتیں (تصویریں) بنا دیتے پس یہ لوگ اللہ کی درگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں برے ہوں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۷ کا خلاصہ
یہ حدیث قبروں پر مسجد بنانے کی ممانعت کے بارے میں ہے۔ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے حبشہ میں ایک کلیسا دیکھا جس میں تصویریں تھیں۔ جب انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے کیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان میں کوئی نیک شخص مر جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور وہاں وہی تصویریں بنا دیتے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں سخت بات فرمائی کہ یہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک مخلوق میں برے ہوں گے۔ اس حدیث میں اصل بات قبر، عبادت گاہ اور تصویروں کو ملانے کے خطرے سے متعلق ہے۔ متن میں جو الفاظ آئے ہیں، بات اسی حد تک رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک آدمی کی قبر پر مسجد بنانے کا عمل حدیث میں سخت ناپسند بتایا گیا ہے۔
- عبادت کی جگہ کو تصویروں سے وابستہ کرنا مذکورہ قوموں کا عمل تھا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اس طرز عمل پر سخت تنبیہ فرمائی۔
- دینی معاملات میں پچھلی قوموں کی غلطیوں سے بچنا چاہیے۔
