صحیح بخاری حدیث ۴۲۶ - دائیں طرف سے شروع کرنے کی سنت
دائیں طرف سے شروع کرنے کی سنت: طہارت، کنگھا اور جوتا
صحیح بخاری : ۴۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۶
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کاموں میں جہاں تک ممکن ہوتا دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ طہارت کے وقت بھی، کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۶ کا خلاصہ
یہ حدیث دائیں طرف سے شروع کرنے کی سنت کے بارے میں بہت آسان اور روزمرہ عمل بتاتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنے تمام کاموں میں، جہاں تک ممکن ہوتا، دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔ حدیث میں تین مثالیں خاص طور پر آئی ہیں: طہارت، کنگھا کرنا، اور جوتا پہننا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں بڑے اعمال کے ساتھ چھوٹے روزمرہ کاموں میں بھی نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ موجود ہے۔ یہ حدیث دائیں ہاتھ کی سنت، طہارت کی سنت، اور جوتا پہننے کی سنت جیسے موضوعات کے لیے بہت تلاش کی جاتی ہے۔ متن میں لفظ جہاں تک ممکن ہوتا آیا ہے، اس لیے بات کو اسی نرمی کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔
- طہارت میں دائیں جانب کا خیال رکھا جاتا تھا۔
- کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی یہ پسندیدہ طریقہ تھا۔
- حدیث میں جہاں تک ممکن ہو کی نرمی موجود ہے۔
