صحیح بخاری حدیث ۱۳۹۹ - لا الہ الا اللہ اور جان و مال کی حفاظت
لا الہ الا اللہ کی حدیث: جان و مال کی حرمت
صحیح بخاری : ۱۳۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۹۹
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ , وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ , وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ .
ابوہریرہ روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہو گئے (اور کچھ نے زکوٰۃ سے انکار کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا) تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کر سکتے ہیں ”مجھے حکم ہے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت نہ دیدیں اور جو شخص اس کی شہادت دیدے تو میری طرف سے اس کا مال و جان محفوظ ہو جائے گا۔ سوا اسی کے حق کے (یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے) اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا ایک معاملہ بیان ہوا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کے بارے میں مسئلہ پیش آیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں۔ جو اسے کہہ دے اس کا مال اور جان محفوظ ہو جاتے ہیں، سوائے حق کے، اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ اس حدیث میں کلمہ، جان و مال کی حرمت، اور ظاہری اسلام کے حکم کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لا الہ الا اللہ کہنے سے جان و مال کی حفاظت کا اصول بیان ہوا۔
- حدیث میں حق کے معاملے کو اس حفاظت سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
- باطنی حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد بتایا گیا ہے۔
- صحابہ کرام دینی فیصلوں میں حدیث سے دلیل لیتے تھے۔
