صحیح بخاری حدیث ۱۴۶۴ - غلام اور گھوڑے کی زکوٰۃ

زکوٰۃ کا حکم: غلام اور گھوڑے پر زکوٰۃ نہیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۶۴

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر نہ اس کے غلام میں زکوٰۃ فرض ہے اور نہ گھوڑے میں۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۶۴ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی بات کو ایک اور ترتیب سے بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان پر نہ اس کے غلام میں زکوٰۃ فرض ہے اور نہ گھوڑے میں۔ اس حدیث کا موضوع زکوٰۃ کا حکم ہے، خاص طور پر ایسی چیزوں کے بارے میں جو آدمی کے پاس ذاتی استعمال یا ملکیت میں ہوں۔ حدیث سے یہ سمجھ آتی ہے کہ زکوٰۃ کا معاملہ صرف مالدار ہونے کا نام نہیں، بلکہ شریعت نے یہ بھی بتایا ہے کہ کس مال پر زکوٰۃ ہے اور کس پر نہیں۔ اس لیے زکوٰۃ کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا ضروری ہے، تاکہ آدمی نہ کمی کرے اور نہ اپنی طرف سے ایسا بوجھ ڈالے جو حدیث میں نہیں آیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غلام اور گھوڑے پر زکوٰۃ فرض نہ ہونے کا حکم حدیث میں صاف آیا ہے۔
  • زکوٰۃ کے لیے مال کی قسم کا علم ضروری ہے۔
  • دینی حکم میں اپنی رائے کے بجائے نص کو بنیاد بنانا چاہیے۔
  • مالی عبادت میں احتیاط اور صحیح سمجھ دونوں ضروری ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں