صحیح بخاری حدیث ۱۴۶۳ - گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ

زکوٰۃ کے مسائل: گھوڑے اور غلام پر زکوٰۃ کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۶۳

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ , قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَغُلَامِهِ صَدَقَةٌ " .

ابوہریرہ روایت:

مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ واجب نہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۶۳ کا خلاصہ

یہ حدیث زکوٰۃ کے مسائل میں ایک خاص حکم بتاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ واجب نہیں۔ حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں، اس لیے اسی حد تک بات رکھنا درست ہے۔ اس سے اتنی بات واضح ہوتی ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کے پاس ہو، لازماً زکوٰۃ کے حکم میں نہیں آتی۔ زکوٰۃ کے اپنے خاص اصول اور مال کی خاص قسمیں ہیں۔ یہاں خاص طور پر گھوڑے اور غلام کا ذکر آیا ہے۔ اس لیے زکوٰۃ ادا کرتے وقت آدمی کو اندازے سے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ جو مال زکوٰۃ کے حکم میں آتا ہے اسی کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زکوٰۃ کے احکام ہر مال پر ایک جیسے نہیں ہوتے۔
  • اس حدیث میں مسلمان کے گھوڑے اور غلام پر زکوٰۃ نہ ہونے کا حکم آیا ہے۔
  • دینی مالی معاملات میں واضح نص کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
  • زکوٰۃ کے مسئلے میں اندازے کے بجائے صحیح علم ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں