صحیح بخاری حدیث ۱۴۶۶ - رشتہ داروں پر صدقہ
رشتہ داروں پر صدقہ: شوہر اور یتیم بچوں پر خرچ کا اجر
صحیح بخاری : ۱۴۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۶۶
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ . ح فَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً , قَالَتْ : " كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ تُنْفِقُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهَا ، قَالَ : فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ : سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْكَ وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حَجْرِي مِنَ الصَّدَقَةِ ؟ فَقَالَ : سَلِي أَنْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى الْبَابِ حَاجَتُهَا مِثْلُ حَاجَتِي ، فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا : سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِي فِي حَجْرِي ؟ وَقُلْنَا لَا تُخْبِرْ بِنَا ، فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ , فَقَالَ : مَنْ هُمَا ؟ , قَالَ : زَيْنَبُ ، قَالَ : أَيُّ الزَّيَانِبِ ؟ , قَالَ : امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ " .
زینب روایت:
میں مسجد نبوی میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے ‘ صدقہ کرو ‘ خواہ اپنے زیور ہی میں سے دو۔ اور زینب اپنا صدقہ اپنے شوہر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور چند یتیموں پر بھی جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی تھیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھئے کہ کیا وہ صدقہ بھی مجھ سے کفایت کرے گا جو میں آپ پر اور ان چند یتیموں پر خرچ کروں جو میری سپردگی میں ہیں۔ لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم خود جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو۔آخر میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کو پایا۔ جو میری ہی جیسی ضرورت لے کر موجود تھیں۔ (جو زینب ابومسعود انصاری کی بیوی تھیں) پھر ہمارے سامنے سے بلال گذرے۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیجئے کہ کیا وہ صدقہ مجھ سے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنی زیر تحویل چند یتیم بچوں پر خرچ کر دوں۔ ہم نے بلال سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا۔وہ اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دو عورتیں مسئلہ دریافت کرتی ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں کون ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ زینب نام کی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون سی زینب؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! بیشک درست ہے۔ اور انہیں دو گنا ثواب ملے گا۔ ایک قرابت داری کا اور دوسرا خیرات کرنے کا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں زینب رضی اللہ عنہا کا سوال بہت عملی ہے۔ وہ صدقہ کرتی تھیں اور اپنے شوہر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور چند یتیم بچوں پر خرچ کرتی تھیں جو ان کی دیکھ بھال میں تھے۔ انہوں نے پوچھنا چاہا کہ کیا یہ خرچ صدقہ میں کافی ہو گا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ذریعے سوال پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس کے لیے دو اجر ہیں، ایک قرابت کا اجر اور ایک صدقہ کا اجر۔ اس حدیث سے رشتہ داروں پر صدقہ کی فضیلت صاف سمجھ آتی ہے۔ گھر یا خاندان میں ضرورت موجود ہو تو اسے نظر انداز کر کے صرف باہر خرچ کرنا لازم نہیں، بلکہ قریب کے حق داروں کا خیال بھی دین کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت مند رشتہ داروں پر خرچ کرنا صدقہ بن سکتا ہے۔
- زیر کفالت یتیم بچوں کی مدد کرنا نیکی کا کام ہے۔
- رشتہ داری نبھانے اور صدقہ کرنے کا اجر ایک ساتھ مل سکتا ہے۔
- دینی مسئلہ سمجھ نہ آئے تو پوچھ لینا چاہیے۔
