صحیح بخاری حدیث ۱۴۶۷ - بچوں پر خرچ کا اجر
بچوں پر خرچ کا اجر: گھر کی کفالت بھی نیکی ہے
صحیح بخاری : ۱۴۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۶۷
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِأَلِيَ أَجْرٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى بَنِي أَبِي سَلَمَةَ إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ ؟ , فَقَالَ : أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ ، فَلَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " .
ام سلمہ روایت:
میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! اگر میں ابوسلمہ (اپنے پہلے خاوند) کے بیٹوں پر خرچ کروں تو درست ہے یا نہیں۔ کیونکہ وہ میری بھی اولاد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان پر خرچ کر۔ تو جو کچھ بھی ان پر خرچ کرے گی اس کا ثواب تجھ کو ملے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر وہ ابو سلمہ کے بیٹوں پر خرچ کریں تو کیا انہیں اجر ملے گا، کیونکہ وہ ان کی بھی اولاد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر خرچ کرو، جو کچھ تم ان پر خرچ کرو گی اس کا اجر تمہیں ملے گا۔ یہ حدیث گھر کی ذمہ داری اور بچوں پر خرچ کی نیکی کو بہت صاف انداز میں بتاتی ہے۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ سیدھا جواب ہے کہ بچوں کی ضرورت پوری کرنا اجر کا کام ہے۔ خاص طور پر جب آدمی اسے اللہ کی رضا کے لیے کرے تو معمولی خرچ بھی نیکی بن جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں پر خرچ کرنا اجر کا سبب ہے۔
- گھر کی جائز ضرورت پوری کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔
- سوال کر کے دینی اطمینان حاصل کرنا اچھا عمل ہے۔
- جو مال بچوں کی ضرورت پر لگے، وہ ضائع نہیں جاتا۔
