صحیح بخاری حدیث ۱۵۰۳ - صدقہ فطر کب ادا کیا جائے
صدقہ فطر کی حدیث: ایک صاع اور نماز عید سے پہلے ادائیگی
صحیح بخاری : ۱۵۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۰۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى الْعَبْدِ , وَالْحُرِّ , وَالذَّكَرِ , وَالْأُنْثَى , وَالصَّغِيرِ , وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطر کی زکوٰۃ (صدقہ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دی تھی۔ غلام ‘ آزاد ‘ مرد ‘ عورت ‘ چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہ تھا کہ نماز (عید) کے لیے جانے سے پہلے یہ صدقہ ادا کر دیا جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع صدقہ فطر ہے، جسے عام زبان میں فطرانہ بھی کہا جاتا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطر کی زکوٰۃ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دی۔ یہ حکم غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں کے لیے بیان ہوا۔ روایت میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اسے عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس لیے اس حدیث میں صدقہ فطر کی مقدار، زکوٰۃ فطر، فطرانہ کب دینا ہے، اور عید سے پہلے فطرہ جیسے اہم سوالات کا جواب ملتا ہے۔ متن کے مطابق اصل زور مقدار اور وقت پر ہے، تاکہ یہ ادائیگی نماز عید سے پہلے ہو جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو کی صورت میں بیان ہوا ہے۔
- یہ حکم مرد، عورت، چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام مسلمانوں کے لیے ذکر ہوا ہے۔
- فطرانہ عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
- حدیث میں صدقہ فطر کے وقت اور مقدار دونوں کو صاف بیان کیا گیا ہے۔
