صحیح بخاری حدیث ۱۵۱۱ - صدقہ فطر ایک یا دو دن پہلے

صدقہ فطر: مقدار، افراد اور عید سے پہلے ادائیگی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۱۱

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " فَرَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ أَوْ قَالَ : رَمَضَانَ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ " ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُعْطِي التَّمْرَ فَأَعْوَزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنَ التَّمْرِ فَأَعْطَى شَعِيرًا ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي عَنِ الصَّغِيرِ , وَالْكَبِيرِ حَتَّى إِنْ كَانَ لِيُعْطِي عَنْ بَنِيَّ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُعْطِيهَا الَّذِينَ يَقْبَلُونَهَا ، وَكَانُوا يُعْطُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ . قال ابوعبدالله بني يعني بني نافع قال کانوا يعطون ليجمع لاللفقراء .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر یا یہ کہا کہ صدقہ رمضان مرد، عورت، آزاد اور غلام (سب پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دیا تھا۔ پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں اس کے برابر قرار دے لیا۔ لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما کھجور دیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ مدینہ میں کھجور کا قحط پڑا تو آپ نے جو صدقہ میں نکالا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما چھوٹے بڑے سب کی طرف سے یہاں تک کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی صدقہ فطر نکالتے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر ہر فقیر کو جو اسے قبول کرتا، دے دیا کرتے تھے۔ اور لوگ صدقہ فطر ایک یا دو دن پہلے ہی دے دیا کرتے تھے۔امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا میرے بیٹوں سے نافع کے بیٹے مراد ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا وہ عید سے پہلے جو صدقہ دے دیتے تھے تو اکٹھا ہونے کے لیے نہ فقیروں کے لیے (پھر وہ جمع کر کے فقراء میں تقسیم کر دیا جاتا)۔

صحیح بخاری حدیث ۱۵۱۱ کا خلاصہ

یہ حدیث صدقہ فطر کے کئی پہلو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر یا صدقہ رمضان مرد، عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کیا۔ پھر لوگوں کے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر قرار دینے کا ذکر آیا۔ روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بھی بیان ہوا کہ وہ کھجور دیتے تھے، اور کھجور نہ ملی تو جَو دیا۔ وہ چھوٹے بڑے سب کی طرف سے دیتے تھے، حتیٰ کہ بچوں کی طرف سے بھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ لوگ عید سے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر دے دیا کرتے تھے۔ اس لیے یہ حدیث فطرانہ کی مقدار، وقت اور خاندان کی طرف سے ادائیگی جیسے سوالات سے بہت قریب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ فطر مرد، عورت، آزاد اور غلام کے لیے بیان ہوا ہے۔
  • ابن عمر رضی اللہ عنہما چھوٹے بڑے سب کی طرف سے فطرانہ دیتے تھے۔
  • کھجور نہ ہونے پر انہوں نے جَو صدقہ میں نکالا۔
  • روایت میں عید سے ایک یا دو دن پہلے فطرانہ دینے کا عمل ذکر ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں