صحیح بخاری حدیث ۱۵۶۲ - حج، عمرہ اور احرام کی اقسام

حج تمتع کی حدیث: حجۃ الوداع میں احرام کی مختلف صورتیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۶۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ، وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ " .

عائشہ روایت:

ہم حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے۔ کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا اور کچھ نے صرف حج کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) صرف حج کا احرام باندھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ بھی شریک کر لیا، پھر جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا، ان کا احرام دسویں تاریخ تک نہ کھل سکا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۵۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کا حال بیان کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے والوں میں کچھ لوگوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا، کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا، اور کچھ نے صرف حج کا احرام باندھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے حج کا احرام باندھا، پھر عمرہ بھی شامل کر لیا۔ اس روایت میں حج تمتع، حج قران، حج افراد اور احرام کی مدت جیسے الفاظ سے جڑی اصل بات سامنے آتی ہے۔ خاص طور پر یہ بتایا گیا کہ جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا، وہ دسویں تاریخ یعنی یوم نحر تک حلال نہیں ہوئے۔ حدیث کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ حجۃ الوداع میں احرام کی ایک سے زیادہ صورتیں موجود تھیں، اور ہر صورت کا حکم ایک جیسا نہیں تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حجۃ الوداع میں صحابہ کے احرام کی مختلف صورتیں موجود تھیں۔
  • کچھ لوگوں نے عمرہ، کچھ نے حج، اور کچھ نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا۔
  • حج یا حج و عمرہ جمع کرنے والوں کا احرام یوم نحر تک باقی رہا۔
  • عبادت میں طریقہ وہی معتبر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں