صحیح بخاری حدیث ۱۵۶۷ - حج تمتع سنت نبوی ہے

حج تمتع سنت نبوی ہے: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رہنمائی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۶۷

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ ، قَالَ : " تَمَتَّعْتُ ، فَنَهَانِي نَاسٌ ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَأَمَرَنِي ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَجُلًا يَقُولُ لِي : حَجٌّ مَبْرُورٌ وَعُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : أَقِمْ عِنْدِي ، فَأَجْعَلَ لَكَ سَهْمًا مِنْ مَالِي ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ : لِمَ ، فَقَالَ : لِلرُّؤْيَا الَّتِي رَأَيْتُ " .

ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی روایت:

میں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تو کچھ لوگوں نے مجھے منع کیا۔ اس لیے میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے تمتع کرنے کے لیے کہا۔ پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ مجھ سے کہہ رہا ہے ”حج بھی مبرور ہوا اور عمرہ بھی قبول ہوا“ میں نے یہ خواب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنایا، تو آپ نے فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میرے یہاں قیام کر، میں اپنے پاس سے تمہارے لیے کچھ مقرر کر کے دیا کروں گا۔شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے (ابوجمرہ سے) پوچھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ کیوں کیا تھا؟ (یعنی مال کس بات پر دینے کے لیے کہا) انہوں نے بیان کیا کہ اسی خواب کی وجہ سے جو میں نے دیکھا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۵۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوجمرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا، تو کچھ لوگوں نے انہیں منع کیا۔ پھر انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تمتع کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد ابوجمرہ نے خواب دیکھا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے: حج بھی مبرور ہوا اور عمرہ بھی قبول ہوا۔ جب انہوں نے یہ خواب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اس روایت میں حج تمتع، عمرہ کے ساتھ حج، سنت نبوی اور اہل علم سے مسئلہ پوچھنے کا پہلو آتا ہے۔ حدیث میں خواب کا ذکر بھی ہے، مگر اصل بات ابن عباس رضی اللہ عنہما کا تمتع کو سنت نبوی کہنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابوجمرہ نے اختلاف سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مسئلہ پوچھا۔
  • ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تمتع کی رہنمائی کی۔
  • اس روایت میں تمتع کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کہا گیا۔
  • دینی الجھن میں اہل علم سے پوچھنا بہتر راستہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں