صحیح بخاری حدیث ۱۵۷۱ - تمتع قرآن اور سنت سے ثابت
تمتع کی حدیث: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا عمل
صحیح بخاری : ۱۵۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۷۱
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ ، عَنْ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ ، قَالَ رَجُلٌ : بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " .
عمران بن حصین روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے تمتع کیا تھا اور خود قرآن میں تمتع کا حکم نازل ہوا تھا۔ اب ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ تمتع کے بارے میں ایک اصولی بات بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تمتع کیا تھا، اور خود قرآن میں تمتع کا حکم نازل ہوا تھا۔ پھر انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ اس روایت کا اصل موضوع حج تمتع، قرآن کا حکم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا عمل اور ذاتی رائے کے مقابلے میں ثابت شدہ حکم ہے۔ حدیث میں کسی شخص کا نام نہیں آیا، اس لیے وضاحت بھی نام لیے بغیر رہنی چاہیے۔ متن سے اتنی بات صاف ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ تمتع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے عمل اور قرآن کے حکم کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے مطابق تمتع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا گیا۔
- اس روایت میں تمتع کے بارے میں قرآن کے حکم کا ذکر ہے۔
- ثابت شدہ دینی حکم کے مقابلے میں ذاتی رائے کو معیار نہیں بنایا گیا۔
- حدیث ہمیں حکم اور رائے کے فرق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
