صحیح بخاری حدیث ۱۵۷۵ - مکہ میں داخل اور نکلنے کا راستہ
مکہ میں داخل ہونے کا راستہ حدیث: ثنیہ علیا اور ثنیہ سفلیٰ
صحیح بخاری : ۱۵۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۷۵
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا ، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى " .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بلند گھاٹی (یعنی جنت المعلیٰ) کی طرف سے داخل ہوتے اور نکلتے ”ثنیہ سفلیٰ“ کی طرف سے یعنی نیچے کی گھاٹی (باب شبیکہ) کی طرف سے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں داخل ہونے اور نکلنے کا راستہ بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بلند گھاٹی، یعنی ثنیہ علیا کی طرف سے داخل ہوتے، اور نکلتے وقت نیچے والی گھاٹی، یعنی ثنیہ سفلیٰ کی طرف سے نکلتے تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع مکہ داخل ہونے کا راستہ، ثنیہ علیا، ثنیہ سفلیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر کا طریقہ ہے۔ حدیث میں صرف راستے کا بیان ہے، اس لیے اس سے کوئی اضافی دعویٰ نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ آسان الفاظ میں، صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے اعمال بھی محفوظ کیے جو سفر اور مکہ میں داخلے کے انداز سے متعلق تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بلند گھاٹی سے داخل ہوتے تھے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نیچے والی گھاٹی کی طرف سے نکلتے تھے۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ راستہ واضح طور پر بیان کیا۔
- حدیث میں مکہ کے داخلے اور خروج کے عملی انداز کا ذکر ہے۔
