صحیح بخاری حدیث ۱۶۱۱ - حجر اسود کا استلام اور بوسہ
حجر اسود کا استلام: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا واضح جواب
صحیح بخاری : ۱۶۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۱۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قال : " سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ ، أَرَأَيْتَ إِنْ غُلِبْتُ ، قَالَ : اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ " .
زبیر بن عربی روایت:
ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود کے بوسہ دینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کو بوسہ دیتے دیکھا ہے۔“ اس پر اس شخص نے کہا اگر ہجوم ہو جائے اور میں عاجز ہو جاؤں تو کیا کروں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”اس اگر وگر کو یمن میں جا کر رکھو میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کو بوسہ دیتے تھے۔“
صحیح بخاری حدیث ۱۶۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع حجر اسود کا استلام اور بوسہ ہے۔ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود کے بوسہ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے استلام کرتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ اس شخص نے ہجوم اور عاجزی کی صورت کا سوال کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی اگر وگر کو پسند نہیں کیا اور پھر وہی بات دہرائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود کا استلام اور بوسہ دیتے دیکھا۔ حدیث میں اصل زور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھے ہوئے عمل پر ہے۔ اس لیے حجر اسود کا استلام، بوسہ حجر اسود، ہجوم میں حجر اسود، اور ابن عمر کی حدیث جیسے الفاظ اس کے لیے مناسب ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بنیاد بنایا۔
- حدیث میں حجر اسود کے استلام اور بوسہ دونوں کا ذکر ہے۔
- صحابی نے سوال کے جواب میں دیکھی ہوئی سنت بیان کی۔
- روایت میں ہجوم کا ذکر سوال کے طور پر آیا ہے۔
