صحیح بخاری حدیث ۱۶۱۲ - طواف میں حجر اسود کی طرف اشارہ
حجر اسود کی طرف اشارہ: سواری پر طواف کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۶۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۱۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالبيت عَلَى بَعِيرٍ ، كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹنی پر (سوار ہو کر کعبہ کا) طواف کر رہے تھے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع طواف میں حجر اسود کی طرف اشارہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے۔ حدیث میں اشارہ کا ذکر ہے، بوسہ یا براہ راست چھونے کا ذکر اس روایت میں نہیں آیا۔ اس لیے وضاحت میں اسی بات کو بنیاد بنانا چاہیے کہ یہ سواری پر طواف کا ایک بیان ہے۔ یہ روایت ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو حجر اسود کی طرف اشارہ، سواری پر طواف، اشارہ استلام، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف جیسے الفاظ تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر طواف کر رہے تھے۔
- حجر اسود کے سامنے پہنچ کر کسی چیز سے اشارہ کیا۔
- حدیث میں ہر بار سامنے آنے پر اشارہ کرنے کا ذکر ہے۔
- روایت سواری پر طواف کا مختصر بیان دیتی ہے۔
