صحیح بخاری حدیث ۱۶۱۳ - اشارہ اور تکبیر کے ساتھ طواف

طواف میں اشارہ اور تکبیر: حجر اسود کے سامنے نبوی عمل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۱۳

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالبيت عَلَى بَعِيرٍ ، كُلَّمَا أَتَى الرُّكْنَ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ كَانَ عِنْدَهُ وَكَبَّرَ " تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف ایک اونٹنی پر سوار رہ کر کیا۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔ خالد طحان کے ساتھ اس حدیث کو ابراہیم بن طہمان نے بھی خالد حذاء سے روایت کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع طواف میں اشارہ اور تکبیر ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کا طواف اونٹنی پر سوار ہو کر کر رہے تھے۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو اپنے پاس موجود کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔ اس روایت میں ایک بات پچھلی روایت سے زیادہ صاف آتی ہے کہ اشارہ کے ساتھ تکبیر بھی کہی گئی۔ اس لیے اس حدیث کو حجر اسود کی طرف اشارہ، طواف میں تکبیر، سواری پر طواف، اور اشارہ استلام کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جا سکتا ہے۔ وضاحت میں یہی بات کافی ہے کہ روایت میں سواری، اشارہ اور تکبیر تینوں چیزیں بیان ہوئی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی پر طواف کیا۔
  • حجر اسود کے سامنے کسی چیز سے اشارہ فرمایا۔
  • اشارہ کے ساتھ تکبیر کہنے کا ذکر آیا ہے۔
  • حدیث طواف کے دوران ایک خاص عمل کو بیان کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں