صحیح بخاری حدیث ۱۶۰۱ - کعبہ کی پاکیزگی اور توحید کا پیغام

کعبہ کی پاکیزگی: بتوں سے دوری اور توحید کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۰۱

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا ، فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجُوا صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّهُمَا لَمْ يَسْتَقْسِمَا بِهَا قَطُّ ، فَدَخَلَ البيت فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ " .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (فتح مکہ کے دن) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر جانے سے اس لیے انکار فرمایا کہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ نکالے گئے، لوگوں نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکالے۔ ان کے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر دے رکھے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو غارت کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے تیر سے فال کبھی نہیں نکالی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور چاروں طرف تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع کعبہ کی پاکیزگی اور توحید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو کعبہ کے اندر بت موجود تھے، اس لیے آپ نے اندر جانے سے پہلے انہیں نکالنے کا حکم دیا۔ اس میں یہ بات صاف ہے کہ اللہ کے گھر کو شرک کی چیزوں سے پاک رکھا گیا۔ حدیث میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی طرف فال کے تیروں کی جھوٹی نسبت کا بھی ذکر ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ میں رد فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیوں کے بارے میں غلط بات منسوب کرنا درست نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر گئے اور چاروں طرف تکبیر کہی، مگر اندر نماز نہیں پڑھی۔ اس لیے اس حدیث کو کعبہ سے بت نکالنے کی حدیث، توحید کی حدیث، اور فتح مکہ میں کعبہ کی پاکیزگی کے عنوان سے لوگ تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے گھر کو شرک اور بتوں سے پاک رکھا گیا۔
  • انبیاء علیہم السلام کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا غلط ہے۔
  • کعبہ میں داخل ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی۔
  • حدیث میں صاف بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں