صحیح بخاری حدیث ۱۶۰۰ - طواف کے بعد دو رکعت
طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۶۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۰۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قال : " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ بالبيت ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ ؟ , قَالَ : لَا .
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہیں عبداللہ ابن ابی اوفی نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کا طواف کر کے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ ”نہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۱۶۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمرہ کے دوران نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل کا ذکر ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عمرہ کیا، کعبہ کا طواف کیا، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع “طواف کے بعد دو رکعت” اور “مقام ابراہیم کے پیچھے نماز” ہے۔ روایت صاف بتاتی ہے کہ اس عمرہ میں آپ صلى الله عليه وسلم نے طواف اور دو رکعت ادا کیں، مگر کعبہ کے اندر داخل نہیں ہوئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمرہ میں نبی صلى الله عليه وسلم نے کعبہ کا طواف کیا۔
- طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔
- اس موقع پر آپ صلى الله عليه وسلم کعبہ کے اندر داخل نہیں ہوئے۔
