صحیح بخاری حدیث ۴۱۸۸ - عمرہ قضا اور نبی صلى الله عليه وسلم کی حفاظت
عمرہ قضا کی حدیث: طواف، نماز، سعی اور نبی صلى الله عليه وسلم کی حفاظت
صحیح بخاری : ۴۱۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۸۸
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا يَعْلَى , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ فَطَافَ , فَطُفْنَا مَعَهُ , وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ , وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , فَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ " .
عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ (قضاء) کیا تو ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کی سعی بھی کی۔ ہم آپ کی اہل مکہ سے حفاظت کرتے تھے تاکہ کوئی تکلیف کی بات آپ کو پیش نہ آ جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۸۸ کا خلاصہ
یہ حدیث عمرہ قضا کے موقع کا ایک خوب صورت منظر بتاتی ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عمرہ کیا تو صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے طواف کیا تو انہوں نے بھی طواف کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی نماز پڑھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تو صحابہ آپ کے ساتھ رہے۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ صحابہ اہل مکہ کی طرف سے آپ صلى الله عليه وسلم کی حفاظت کرتے تھے، تاکہ کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اس حدیث میں عمرہ کے اعمال، نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی، اور جماعتی ذمہ داری کا سبق ایک ساتھ ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبادت کے طریقے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پیروی اصل رہنمائی ہے۔
- صحابہؓ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی حفاظت اور خدمت میں پوری توجہ رکھتے تھے۔
- طواف، نماز اور سعی عمرہ کے عمل میں نمایاں طور پر بیان ہوئے ہیں۔
