صحیح بخاری حدیث ۴۱۸۷ - بیعت رضوان کا واقعہ
بیعت رضوان کی حدیث: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ پر وفاداری کا عہد
صحیح بخاری : ۴۱۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۸۷
وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ , أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " أَنَّ النَّاسَ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ تَفَرَّقُوا فِي ظِلَالِ الشَّجَرِ , فَإِذَا النَّاسُ مُحْدِقُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ انْظُرْ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَجَدَهُمْ يُبَايِعُونَ , فَبَايَعَ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عُمَرَ فَخَرَجَ فَبَايَعَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ مختلف درختوں کے سائے میں پھیل گئے تھے۔ پھر اچانک بہت سے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف جمع ہو گئے۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹا عبداللہ! دیکھو تو سہی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کیوں ہو گئے ہیں؟ انہوں نے دیکھا تو صحابہ بیعت کر رہے تھے۔ چنانچہ پہلے انہوں نے خود بیعت کر لی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو آ کر خبر دی پھر وہ بھی گئے اور انہوں نے بھی بیعت کی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۸۷ کا خلاصہ
یہ حدیث حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کا منظر بیان کرتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مختلف درختوں کے سائے میں پھیلے ہوئے تھے۔ اچانک بہت سے صحابہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جا کر دیکھو لوگ کیوں جمع ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ صحابہ بیعت کر رہے ہیں، تو انہوں نے خود بھی بیعت کر لی۔ پھر واپس آ کر عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی، چنانچہ وہ بھی گئے اور بیعت کی۔ اس روایت میں وفاداری، جلدی خیر قبول کرنے، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ مضبوط تعلق کا صاف سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہؓ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم اور بیعت میں سنجیدہ تھے۔
- اچھی بات معلوم ہو تو خود عمل کر کے دوسروں کو بھی بتانا چاہیے۔
- دینی معاملے میں باپ بیٹے دونوں کا خیر کی طرف بڑھنا قابل عمل سبق ہے۔
