صحیح بخاری حدیث ۴۱۸۶ - بیعت شجرہ اور خبر کی تحقیق

بیعت شجرہ کی حدیث: سنی ہوئی بات کی تحقیق کیوں ضروری ہے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۸۶

حَدَّثَنِي شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ , سَمِعَ النَّضْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا صَخْرٌ , عَنْ نَافِعٍ , قَالَ : " إِنَّ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ وَلَيْسَ كَذَلِكَ , وَلَكِنْ عُمَرُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْسَلَ عَبْدَ اللَّهِ إِلَى فَرَسٍ لَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يَأْتِي بِهِ لِيُقَاتِلَ عَلَيْهِ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ , وَعُمَرُ لَا يَدْرِي بِذَلِكَ , فَبَايَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْفَرَسِ , فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ وَعُمَرُ يَسْتَلْئِمُ لِلْقِتَالِ , فَأَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , قَالَ : فَانْطَلَقَ فَذَهَبَ مَعَهُ حَتَّى بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ الَّتِي يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ " .

نافع روایت:

لوگ کہتے ہیں کہ` عبداللہ، عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے، حالانکہ یہ غلط ہے۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنا ایک گھوڑا لانے کے لیے بھیجا تھا ‘ جو ایک انصاری صحابی کے پاس تھا تاکہ اسی پر سوار ہو کر جنگ میں شریک ہوں۔اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیٹھ کر بیعت لے رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ کو ابھی اس کی اطلاع نہیں ہوئی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پہلے بیعت کی پھر گھوڑا لینے گئے۔ جس وقت وہ اسے لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ جنگ کے لیے اپنی زرہ پہن رہے تھے۔ انہوں نے اس وقت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیعت لے رہے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپ اپنے لڑکے کو ساتھ لے گئے اور بیعت کی۔ اتنی سی بات تھی جس پر لوگ اب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسلام لائے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۸۶ کا خلاصہ

یہ روایت بیعت شجرہ اور بات کی صحیح تحقیق کا سبق دیتی ہے۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لوگ یہ بات کرتے تھے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام لائے تھے، مگر یہ بات درست نہیں۔ اصل واقعہ یہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ کے دن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک گھوڑا لانے بھیجا تھا۔ اسی دوران رسول اللہ صلى الله عليه وسلم درخت کے نیچے بیعت لے رہے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پہلے بیعت کی، پھر گھوڑا لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں بتایا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ بھی گئے اور بیعت کی۔ اس طرح ایک واقعہ کو لوگوں نے غلط معنی دے دیے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر مشہور بات لازمی طور پر درست نہیں ہوتی، تحقیق ضروری ہے۔
  • نیکی کا موقع آئے تو اسے پہچان کر فوراً عمل کرنا اچھا ہے۔
  • اہم دینی خبر دوسروں تک پہنچانا بھی خیر کا کام ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں