صحیح بخاری حدیث ۱۵۹۹ - کعبہ میں نماز کی جگہ
کعبہ میں نماز کی جگہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل
صحیح بخاری : ۱۵۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۹۹
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى قِبَلَ الْوَجْهِ حِينَ يَدْخُلُ وَيَجْعَلُ الْبَابَ قِبَلَ الظَّهْرِ يَمْشِي ، حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِ أَذْرُعٍ فَيُصَلِّي يَتَوَخَّى الْمَكَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِلَالٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ ، وَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ بَأْسٌ أَنْ يُصَلِّيَ فِي أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ " .
نافع روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبہ کے اندر داخل ہوتے تو سامنے کی طرف چلتے اور دروازہ پیٹھ کی طرف چھوڑ دیتے۔ آپ اسی طرح چلتے رہتے اور جب سامنے کی دیوار تقریباً تین ہاتھ رہ جاتی تو نماز پڑھتے تھے۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے جس کے متعلق بلال رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز پڑھی تھی۔ لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کعبہ میں جس جگہ بھی کوئی چاہے نماز پڑھ لے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کے ذریعے کعبہ کے اندر نماز کی جگہ بیان ہوئی ہے۔ جب وہ کعبہ میں داخل ہوتے تو سامنے کی طرف چلتے، دروازہ پیچھے چھوڑ دیتے، پھر سامنے کی دیوار سے قریباً تین ہاتھ رہ جاتے تو نماز پڑھتے۔ وہ اس جگہ کا اہتمام کرتے تھے جس کے بارے میں بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے وہاں نماز پڑھی تھی۔ ساتھ ہی روایت کے آخر میں یہ آسانی بھی بیان ہوئی کہ کعبہ کے اندر جس طرف کوئی چاہے نماز پڑھ لے، اس میں حرج نہیں۔ اس لیے “کعبہ میں نماز کہاں پڑھیں” اور “کعبہ کے اندر نماز کی جگہ” اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز والی جگہ کا اہتمام کرتے تھے۔
- روایت میں دیوار سے قریباً تین ہاتھ کا اندازہ آیا ہے۔
- آخر میں کعبہ کے کسی بھی حصے میں نماز پڑھنے کی گنجائش بیان ہوئی۔
