صحیح بخاری حدیث ۴۶۸ - کعبہ کے اندر نماز کا واقعہ
کعبہ کے اندر نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۸
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ ، فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَفَتَحَ الْبَابَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِلَالٌ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، ثُمَّ أَغْلَقَ الْبَابَ فَلَبِثَ فِيهِ سَاعَةً ، ثُمَّ خَرَجُوا ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَبَدَرْتُ فَسَأَلْتُ بِلَالًا ، فَقَالَ : صَلَّى فِيهِ ، فَقُلْتُ : فِي أَيٍّ ، قَالَ : بَيْنَ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَذَهَبَ عَلَيَّ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى ".
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے (اور مکہ فتح ہوا) تو آپ نے عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا۔ (جو کعبہ کے متولی، چابی بردار تھے) انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، بلال، اسامہ بن زید اور عثمان بن طلحہ چاروں اندر تشریف لے گئے۔ پھر دروازہ بند کر دیا گیا اور وہاں تھوڑی دیر تک ٹھہر کر باہر آئے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر بلال سے پوچھا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر کیا کیا) انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز پڑھی تھی۔ میں نے پوچھا کس جگہ؟ کہا کہ دونوں ستونوں کے درمیان۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ پوچھنا مجھے یاد نہ رہا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے کعبہ کے اندر داخل ہونے اور نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم مکہ تشریف لائے تو عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا۔ انہوں نے کعبہ کا دروازہ کھولا۔ نبی صلى الله عليه وسلم، بلال رضی اللہ عنہ، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اندر گئے۔ دروازہ بند کر دیا گیا اور کچھ دیر بعد سب باہر آئے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فوراً بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اندر کیا کیا۔ بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے نماز پڑھی۔ جب جگہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ دو ستونوں کے درمیان۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رکعتوں کی تعداد پوچھنا یاد نہ رہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور نماز پڑھی۔
- بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی جگہ دو ستونوں کے درمیان بتائی۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دینی بات پوچھنے میں بہت متوجہ تھے۔
- حدیث میں رکعتوں کی تعداد بیان نہیں ہوئی، کیونکہ راوی نے پوچھنا یاد نہ رکھا۔
