صحیح بخاری حدیث ۴۶۷ - مرض وفات میں ابوبکر کی فضیلت
مرض وفات میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام
صحیح بخاری : ۴۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبٌ رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ سُدُّوا عَنِّي ، كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے۔ سر پہ پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا، کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس نے ابوبکر بن ابوقحافہ سے زیادہ مجھ پر اپنی جان و مال کے ذریعہ احسان کیا ہو اور اگر میں کسی کو انسانوں میں سے جانی دوست بناتا تو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو بناتا۔ لیکن اسلام کا تعلق افضل ہے۔ دیکھو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کی کھڑکی چھوڑ کر اس مسجد کی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے مرض وفات کے وقت کا ایک اہم واقعہ بیان ہوا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم سر پر پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف لائے، منبر پر بیٹھے، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں میں کسی نے اپنی جان اور مال کے ذریعے آپ صلى الله عليه وسلم پر ان سے زیادہ احسان نہیں کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر انسانوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا، لیکن اسلام کا تعلق بہتر ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا کہ مسجد کی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں، سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے۔ اس حدیث میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قربانی، قربت اور نبی صلى الله عليه وسلم کی طرف سے ان کی تعریف صاف بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جان و مال کی قربانی کا ذکر فرمایا۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نبی صلى الله عليه وسلم کے ہاں خاص مقام تھا۔
- اسلام کا تعلق اور دینی محبت بہت بڑی نعمت ہے۔
- مسجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی باقی رکھنے کا حکم دیا گیا۔
