صحیح بخاری حدیث ۴۷۶ - ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تلاوت قرآن

ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تلاوت قرآن اور رقت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۶

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً ، ثُمَّ بَدَا لِأَبِي بَكْرٍ فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ ، فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، فَيَقِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ يَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا بَكَّاءً لَا يَمْلِكُ عَيْنَيْهِ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ " .

عروہ بن زبیر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا تو اپنے ماں باپ کو مسلمان ہی پایا اور ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام دن کے دونوں وقت ہمارے گھر تشریف نہ لائے ہوں۔پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سمجھ میں ایک ترکیب آئی تو انہوں نے گھر کے سامنے ایک مسجد بنا لی، وہ اس میں نماز پڑھتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔ مشرکین کی عورتیں اور ان کے بچے وہاں تعجب سے سنتے اور کھڑے ہو جاتے اور آپ کی طرف دیکھتے رہتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے رونے والے آدمی تھے۔ جب قرآن کریم پڑھتے تو آنسوؤں پر قابو نہ رہتا، قریش کے مشرک سردار اس صورت حال سے گھبرا گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر کے حالات بیان کرتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے اپنے ماں باپ کو ہمیشہ مسلمان ہی پایا، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم صبح و شام ان کے گھر تشریف لاتے تھے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کے سامنے ایک مسجد بنا لی۔ وہ وہاں نماز پڑھتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔ مشرکین کی عورتیں اور بچے وہاں کھڑے ہو جاتے، انہیں دیکھتے اور تعجب کرتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت رونے والے تھے۔ جب قرآن پڑھتے تو آنسو روک نہیں پاتے تھے۔ قریش کے مشرک سردار اس بات سے گھبرا گئے۔ اس حدیث کا اصل موضوع قرآن کی تلاوت، نماز، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نرم دلی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے سامنے نماز اور تلاوت کرتے تھے۔
  • قرآن پڑھتے وقت ان پر رقت طاری ہوتی تھی۔
  • مشرکین کی عورتیں اور بچے ان کی تلاوت سن کر متوجہ ہوتے تھے۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر نبی صلى الله عليه وسلم صبح و شام تشریف لاتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں