صحیح بخاری حدیث ۴۶۶ - ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت

ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور اسلام کی برادری

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : مَا يُبْكِي هَذَا الشَّيْخَ ؟ إِنْ يَكُنِ اللَّهُ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْعَبْدَ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا ، قَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ لَا تَبْكِ ، إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ ، إِلَّا بَابُ أَبِي بَكْرٍ " .

ابو سعید خدری روایت:

ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا (کہ وہ جس کو چاہے اختیار کرے) بندے نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے یعنی آخرت۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے، میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر اللہ نے اپنے کسی بندے کو دنیا اور آخرت میں سے کسی کو اختیار کرنے کو کہا اور اس بندے نے آخرت پسند کر لی تو اس میں ان بزرگ کے رونے کی کیا وجہ ہے۔ لیکن یہ بات تھی کہ بندے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا۔ ابوبکر آپ روئیے مت۔ اپنی صحبت اور اپنی دولت کے ذریعہ تمام لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والے آپ ہی ہیں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن (جانی دوستی تو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ہو سکتی) اس کے بدلہ میں اسلام کی برادری اور دوستی کافی ہے۔ مسجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف کے دروازے کے سوا تمام دروازے بند کر دئیے جائیں۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ نے ایک بندے کو دنیا اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے، ان میں اختیار دیا، تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو پسند کیا۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے، کیونکہ وہ بات کو زیادہ سمجھ گئے تھے۔ پھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں اپنی صحبت اور مال کے ذریعے سب سے زیادہ احسان کرنے والے ابوبکر ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اپنی امت میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا، مگر اسلام کی برادری اور محبت کافی ہے۔ مسجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے سوا باقی دروازے بند کرنے کا حکم دیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کے بہت قریبی ساتھی تھے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کی صحبت اور مال کے احسان کو صاف الفاظ میں بیان فرمایا۔
  • ابوبکر رضی اللہ عنہ بات کی گہرائی کو دوسروں سے پہلے سمجھ گئے۔
  • اسلام کی برادری اور محبت کو نبی صلى الله عليه وسلم نے کافی قرار دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں