صحیح بخاری حدیث ۴۶۹ - ثمامہ بن اثال مسجد کے ستون سے بندھے
ثمامہ بن اثال کو مسجد کے ستون سے باندھنے کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ ، يُقَالُ لَهُ : ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو نجد کی طرف بھیجا تھا۔ وہ لوگ بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو (بطور جنگی قیدی) پکڑ لائے اور مسجد میں ایک ستون سے باندھ دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بھیجے ہوئے سواروں کا واقعہ مختصر انداز میں بیان ہوا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے کچھ سوار نجد کی طرف بھیجے۔ وہ بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو پکڑ کر لائے۔ پھر انہیں مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا۔ اس روایت میں اتنی ہی بات بیان ہوئی ہے، اس لیے اس کی شرح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ ثمامہ بن اثال کی حدیث، مسجد کے ستون، اور بنو حنیفہ کے قیدی جیسے الفاظ اس واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس زمانے میں بعض معاملات مسجد میں بھی پیش آئے، مگر اس روایت میں رہائی یا قبول اسلام کی تفصیل نہیں آئی۔ وہ تفصیل دوسری روایت میں آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سواروں کو نجد کی طرف بھیجا۔
- ثمامہ بن اثال بنو حنیفہ سے تعلق رکھتے تھے۔
- انہیں مسجد کے ایک ستون سے باندھا گیا۔
- اس روایت میں واقعہ مختصر بیان ہوا ہے، تفصیل دوسری روایت میں ملتی ہے۔
