صحیح بخاری حدیث ۱۷۹۱ - عمرہ میں طواف اور سعی
عمرہ کا طریقہ: پہلے طواف پھر صفا مروہ کی سعی
صحیح بخاری : ۱۷۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۹۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَمَرْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ ، وَأَتَى الصَّفَا والمروة وَأَتَيْنَاهَا مَعَهُ ، وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ لِي : أَكَانَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ؟ , قَالَ : لَا .
عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ بھی کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کیا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے (بیت اللہ کا) طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے بھی طواف کیا، پھر صفا اور مروہ آئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ والوں سے حفاظت کر رہے تھے کہ کہیں کوئی کافر تیر نہ چلا دے، میرے ایک ساتھی نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں اندر داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمرہ کا عملی طریقہ بیان ہوا ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عمرہ کیا اور ہم نے بھی آپ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ عمرہ کیا۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، اور صحابہ نے بھی آپ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ طواف کیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم صفا اور مروہ آئے، صحابہ بھی ساتھ آئے۔ حدیث میں یہ بھی بیان ہوا کہ صحابہ نبی صلى الله عليه وسلم کی حفاظت کر رہے تھے، تاکہ مکہ والوں میں سے کوئی کافر تیر نہ چلا دے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نبی صلى الله عليه وسلم کعبہ کے اندر داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اس حدیث کا اصل فائدہ عمرہ میں طواف اور صفا مروہ کی سعی کا ترتیب وار بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمرہ میں مکہ داخل ہونے کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا گیا۔
- طواف کے بعد صفا اور مروہ کی طرف جانا اس روایت میں آیا ہے۔
- صحابہؓ نبی صلى الله عليه وسلم کی حفاظت میں بہت محتاط رہتے تھے۔
