صحیح بخاری حدیث ۱۷۹۰ - صفا مروہ کی سعی کا حکم

صفا مروہ کی سعی: آیت کا درست مطلب اور حج و عمرہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۹۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ ، " أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ، فَلَا أُرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : كَلَّا لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا والمروة ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 " , زَادَ سُفْيَانُ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا والمروة .

عروہ بن زبیر روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا جب کہ ابھی میں نوعمر تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں“ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہ ہو گا۔یہ سن کر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہرگز نہیں۔ اگر مطلب یہ ہوتا جیسا کہ تم بتا رہے ہو پھر تو ان کی سعی نہ کرنے میں واقعی کوئی حرج نہیں تھا، لیکن یہ آیت تو انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو منات بت کے نام کا احرام باندھتے تھے جو قدید کے مقابل میں رکھا ہوا تھا وہ صفا اور مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں“سفیان اور ابومعاویہ نے ہشام سے یہ زیادتی نکالی ہے کہ جو کوئی صفا مروہ کا پھیرا نہ کرے تو اللہ اس کا حج اور عمرہ پورا نہ کرے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں صفا اور مروہ کی سعی کے بارے میں ایک اہم سوال کا جواب ہے۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت کا مطلب پوچھا اور سمجھا کہ اگر کوئی صفا مروہ کی سعی نہ کرے تو شاید گناہ نہ ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ بات ایسی نہیں۔ اگر مطلب یہی ہوتا تو آیت کے الفاظ اور ہوتے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، جو پہلے منات کے نام پر احرام باندھتے تھے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے میں جھجک محسوس کرتے تھے۔ اسلام آنے کے بعد انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ روایت کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جو صفا مروہ کی سعی نہ کرے، اللہ اس کا حج یا عمرہ پورا نہ کرے گا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی آیت کا مطلب صحابہؓ کی سمجھ سے لینا چاہیے۔
  • صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
  • حج اور عمرہ میں صفا مروہ کی سعی کی اہمیت اس حدیث میں واضح ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں