صحیح بخاری حدیث ۱۷۸۹ - عمرہ میں احرام کے آداب
عمرہ میں احرام کے آداب: جبہ اور خوشبو کا حکم
صحیح بخاری : ۱۷۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۸۹
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ , يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْخَلُوقِ أَوْ قَالَ : صُفْرَةٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَوَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، فَقَالَ عُمَرُ : تَعَالَ أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْوَحْيَ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَرَفَعَ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ لَهُ غَطِيطٌ , وَأَحْسِبُهُ قَالَ : كَغَطِيطِ الْبَكْرِ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ ؟ اخْلَعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ ، وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ عَنْكَ ، وَأَنْقِ الصُّفْرَةَ ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ " .
صفوان بن یعلیٰ بن امیہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جبہ پہنے ہوئے اور اس پر خلوق یا زردی کا نشان تھا۔ اس نے پوچھا مجھے اپنے عمرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپڑا ڈال دیا گیا، میری بڑی آرزو تھی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں۔عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہاں آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہو رہی ہو، اس وقت تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے آرزو مند ہو؟ میں نے کہا ہاں! انہوں نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا اور میں نے اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ زور زور سے خراٹے لے رہے تھے، میرا خیال ہے کہ انہوں نے بیان کیا ”جیسے اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے“ پھر جب وحی اترنی بند ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے جو عمرہ کے بارے میں پوچھتا تھا؟ اپنا جبہ اتار دے، خلوق کے اثر کو دھو ڈال اور (زعفران کی) زردی صاف کر لے اور جس طرح حج میں کرتے ہو اسی طرح اس میں بھی کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمرہ کے احرام سے متعلق ایک سوال کا جواب بیان ہوا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم جعرانہ میں تھے کہ ایک شخص آیا، اس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس پر خلوق یا زرد رنگ کا اثر تھا۔ اس نے پوچھا کہ میں اپنے عمرہ میں کیا کروں؟ اسی موقع پر وحی نازل ہوئی۔ جب وحی کا اثر ختم ہوا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ پھر فرمایا کہ اپنا جبہ اتار دو، خلوق کا اثر دھو دو، زردی صاف کر لو، اور اپنے عمرہ میں وہی کرو جو حج میں کرتے ہو۔ اس حدیث میں عمرہ کا طریقہ، احرام کی پابندی، خوشبو کا اثر، اور لباس کے بارے میں واضح عملی ہدایت آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کی حالت میں جبہ اتارنے کا حکم اس واقعہ میں دیا گیا۔
- خلوق یا زرد خوشبو کا اثر دھونے کی ہدایت دی گئی۔
- عمرہ کے اعمال میں حج جیسے طریقے کا ذکر آیا ہے۔
