صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۸ - حق آ گیا باطل مٹ گیا
فتح مکہ اور بت شکنی: جاء الحق وزهق الباطل
صحیح بخاری : ۲۴۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۷۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ ، وَجَعَلَ يَقُولُ : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ سورة الإسراء آية 81 " الْآيَةَ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ دن جب) مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بتوں پر مارنے لگے اور فرمانے لگے کہ «جاء الحق وزهق الباطل» ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا“۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع توحید اور باطل کا خاتمہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، آپ ان بتوں کو مارتے جاتے اور فرماتے جاتے: جاء الحق وزهق الباطل، یعنی حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔ فتح مکہ اور بت شکنی کی حدیث میں اصل پیغام یہ ہے کہ خانہ کعبہ اللہ کی عبادت کے لیے ہے، بت پرستی کے لیے نہیں۔ اس روایت میں کوئی لمبی تقریر نہیں، صرف ایک عملی واقعہ اور قرآن کی آیت کا اعلان ہے۔ اس سے توحید کی عظمت اور شرک کے باطل ہونے کا صاف پیغام ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کعبہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فتح مکہ کے دن بتوں کو ہٹایا۔
- حق کے آنے پر باطل باقی نہیں رہتا۔
- توحید اسلام کی بنیاد ہے۔
