صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۹ - تصویروں والے پردے کی حدیث
تصویروں والے پردے کی حدیث: گھر میں سادگی اور احتیاط
صحیح بخاری : ۲۴۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۷۹
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّهَا كَانَتِ اتَّخَذَتْ عَلَى سَهْوَةٍ لَهَا سِتْرًا فِيهِ تَمَاثِيلُ ، فَهَتَكَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ ، فَكَانَتَا فِي الْبَيْتِ يَجْلِسُ عَلَيْهِمَا " .
عائشہ روایت:
انہوں نے اپنے حجرے کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جب دیکھا تو) اسے اتار کر پھاڑ ڈالا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) پھر میں نے اس پردے سے دو گدے بنا ڈالے۔ وہ دونوں گدے گھر میں رہتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بیٹھا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع تصاویر والے پردے کا معاملہ ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرے کے سائبان پر ایک پردہ لٹکایا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اسے دیکھا تو اتار کر پھاڑ دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر اسی کپڑے سے دو گدے بنا دیے، وہ گھر میں رہتے تھے اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم ان پر بیٹھا کرتے تھے۔ تصویروں والے پردے کی حدیث میں دو باتیں صاف ہیں: دیوار یا نمایاں جگہ پر تصویری پردہ باقی نہیں رکھا گیا، اور کپڑا ضائع بھی نہیں کیا گیا بلکہ گدوں کی صورت میں استعمال ہوا۔ اس لیے اس روایت کو بیان کرتے وقت انہی الفاظ اور اسی واقعے تک رہنا چاہیے، بلا ضرورت اضافی حکم شامل نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تصویروں والے پردے کو نمایاں جگہ سے ہٹا دیا گیا۔
- کپڑا ضائع نہیں کیا گیا بلکہ گدے بنا لیے گئے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم ان گدوں پر بیٹھا کرتے تھے۔
- گھر کے معاملے میں دینی احتیاط اور سادگی ملحوظ رکھی گئی۔
