صحیح بخاری حدیث ۲۴۸۰ - مال کی حفاظت میں شہادت
مال کی حفاظت کی حدیث: حق دفاع میں قتل ہونے والا شہید
صحیح بخاری : ۲۴۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۸۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
عبداللہ بن عمرو روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع مال کی حفاظت اور حق دفاع ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنا، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے۔ مال کی حفاظت کی حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس میں انسان کے جائز مال کی حرمت اور دفاع کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ناحق چھینے جانے والے مال کو بچانا معمولی بات نہیں۔ البتہ حدیث میں صرف وہ حالت بیان ہوئی ہے کہ آدمی اپنے مال کے دفاع میں قتل ہو جائے۔ اس لیے اس سے بڑھ کر اپنی طرف سے تفصیل یا ہر صورت کا حکم بیان نہیں کرنا چاہیے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ ظلم کے مقابلے میں جائز مال کی حفاظت ایک معتبر حق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنے مال کی حفاظت ایک جائز حق ہے۔
- مال کے دفاع میں قتل ہونے والے کو حدیث میں شہید کہا گیا ہے۔
- دوسرے کا مال ناحق چھیننا سنگین ظلم ہے۔
- حدیث کی بات اسی خاص حالت تک بیان کرنی چاہیے جو متن میں آئی ہے۔
