صحیح بخاری حدیث ۱۶۱۵ - حج میں پہلے طواف کا عمل

حج کا پہلا عمل: وضو، طواف اور صحابہ کا طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۱۵

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ذَكَرْتُ لِعُرْوَةَ ، قال : فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، "أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ طَافَ ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِثْلَهُ ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَهُ ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ , وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا .

محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود روایت:

میں نے عروہ سے (حج کا مسئلہ) پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (مکہ) تشریف لائے تو سب سے پہلا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ وضو کیا پھر طواف کیا اور طواف کرنے سے عمرہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح حج کیا۔پھر عروہ نے کہا کہ میں نے اپنے والد زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا۔ مہاجرین اور انصار کو بھی میں نے اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ میری والدہ (اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا) نے بھی مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہن (عائشہ رضی اللہ عنہا) اور زبیر اور فلاں فلاں کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ جب ان لوگوں نے حجر اسود کو بوسہ دے لیا تو احرام کھول ڈالا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں حج کے موقع پر مکہ پہنچنے کے بعد پہلے طواف کا ذکر ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ آمد پر پہلے وضو کیا، پھر طواف کیا، اور یہ طواف عمرہ نہیں تھا۔ روایت میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے حج کا بھی یہی طریقہ بیان ہوا ہے۔ عروہ نے اپنے والد زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار کا عمل بھی اسی طرح دیکھا گیا۔ آخر میں عمرہ کا احرام باندھنے والوں کے بارے میں آتا ہے کہ جب انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دے لیا تو احرام کھول دیا۔ اس حدیث کے لیے حج کا پہلا طواف، وضو کے بعد طواف، طواف قدوم، اور حجر اسود کا بوسہ جیسے الفاظ موزوں ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پہنچ کر پہلے وضو کیا۔
  • وضو کے بعد طواف کرنے کا عمل بیان ہوا۔
  • صحابہ کے عمل میں بھی اسی ترتیب کا ذکر آیا۔
  • روایت میں عمرہ والوں کے احرام کھولنے کا واقعہ بھی نقل ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں