صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۷ - زمزم کھڑے ہو کر پینا
زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پینے کی روایت
صحیح بخاری : ۱۶۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۳۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ ، قال : " سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ " , قَالَ عَاصِمٌ : فَحَلَفَ عِكْرِمَةُ ، مَا كَانَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا عَلَى بَعِيرٍ .
عبداللہ بن عباس روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کھڑے ہو کر پیا تھا۔ عاصم نے بیان کیا کہ عکرمہ نے قسم کھا کر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اونٹ پر سوار تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھڑے ہو کر پیا۔ عاصم کہتے ہیں کہ عکرمہ نے قسم کھا کر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اونٹ پر سوار تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع زمزم پینے کا عمل ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ بات آئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کھڑے ہو کر پیا، اور ایک بیان کے مطابق آپ سواری پر تھے۔ اس حدیث کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے، یعنی زمزم کے پانی کا ذکر، پینے کا انداز، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی پلانا۔ اس میں حاجیوں کی خدمت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی دونوں باتیں محسوس ہوتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کھڑے ہو کر پیا۔
- عکرمہ کے بیان کے مطابق اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر تھے۔
