صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۶ - زمزم اور واقعہ معراج کا آغاز
زمزم کا پانی اور معراج کے آغاز کا واقعہ
صحیح بخاری : ۱۶۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۳۶
وَقَالَ عَبْدَانُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فُرِجَ سَقْفِي وَأَنَا بمكة ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَفَرَجَ صَدْرِي ، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا : افْتَحْ ، قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ
ابوذر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میں مکہ میں تھا تو میری (گھر کی) چھت کھلی اور جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اور اسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ اس کے بعد ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اسے انہوں نے میرے سینے میں ڈال دیا اور پھر سینہ بند کر دیا۔ اب وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر آسمان دنیا کی طرف لے چلے۔ آسمان دنیا کے داروغہ سے جبرائیل علیہ السلام نے کہا دروازہ کھولو۔ انہوں نے دریافت کیا کون صاحب ہیں؟ کہا جبرائیل!۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مکہ میں ہونے کا واقعہ بیان فرمایا۔ گھر کی چھت کھولی گئی، جبریل علیہ السلام نازل ہوئے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ چاک کیا، اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر سونے کا ایک طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا تھا۔ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں ڈالا اور سینہ بند کر دیا۔ پھر جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ سے پکڑ کر آسمان دنیا کی طرف لے گئے۔ اس روایت کا موضوع زمزم، ایمان، حکمت اور معراج کا آغاز ہے۔ یہاں ہمیں صرف وہی بات کہنی چاہیے جو حدیث میں آئی ہے: زمزم کے پانی سے غسل، ایمان و حکمت کا ذکر، اور آسمان کی طرف لے جانے کا آغاز۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- معراج کے آغاز میں زمزم کے پانی کا ذکر آیا ہے۔
- حدیث میں ایمان اور حکمت سے بھرے طشت کا بیان ہے۔
- جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان دنیا کی طرف لے گئے۔
