صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۲ - عمرہ میں احرام کھولنے کا ذکر

عمرہ کی حدیث: رکن کو چھونے کے بعد احرام کھولنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۴۲

وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا " .

´اور مجھے میری والدہ نے خبر دی کہ` انہوں نے اپنی بہن اور زبیر اور فلاں فلاں (رضی اللہ عنہم) کے ساتھ عمرہ کیا ہے یہ سب لوگ حجر اسود کا بوسہ لے لیتے تو عمرہ کا احرام کھول دیتے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۲ کا خلاصہ

یہ مختصر حدیث عمرہ کے ایک خاص واقعے کو بیان کرتی ہے۔ عروہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ نے خبر دی کہ انہوں نے اپنی بہن، زبیر رضی اللہ عنہ اور چند لوگوں کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر جب انہوں نے رکن، یعنی حجر اسود والے کونے کو چھوا، تو انہوں نے احرام کھول دیا۔ اس روایت میں اصل بات عمرہ، رکن کا مسح، اور احرام کھولنے سے متعلق ہے۔ اسے پچھلی روایت سے الگ سمجھنا چاہیے، کیونکہ وہاں حج کے آغاز میں طواف کا ذکر تھا اور کہا گیا تھا کہ وہ عمرہ نہیں تھا۔ یہاں صاف لفظوں میں عمرہ کا احرام ہے، پھر رکن کو چھونے کے بعد حلال ہونے کا ذکر ہے۔ اسی لیے عمرہ کا طریقہ تلاش کرنے والوں کے لیے یہ حدیث خاص طور پر اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اس روایت میں عمرہ کا احرام صاف طور پر ذکر ہوا ہے۔
  • رکن کو چھونے کے بعد احرام کھولنے کا عمل بیان کیا گیا ہے۔
  • حج کے طواف اور عمرہ کے عمل کو متن کے مطابق الگ سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں