صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۷ - رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا عمرہ و حج طریقہ
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا نمونہ: طواف، دو رکعت اور صفا مروہ کی سعی
صحیح بخاری : ۱۶۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۴۷
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قال : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ تَلَا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 " .
عمرو بن دینار روایت:
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور دو رکعت نماز پڑھی پھر صفا اور مروہ کی سعی کی۔ اس کے بعد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۷ کا خلاصہ
اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے مکہ آنے کا عمل بیان کرتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، پھر دو رکعت نماز ادا کی، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آیت پڑھی کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ یہ حدیث طواف، مقام ابراہیم کے بعد نماز، اور صفا مروہ کی سعی کو ایک واضح ترتیب میں بیان کرتی ہے۔ اس میں لمبی بحث نہیں، بلکہ سیدھا عملی نمونہ ہے۔ جو شخص عمرہ یا حج کا طریقہ حدیث سے جاننا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ روایت بہت سادہ زبان میں راستہ بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل کو عبادت میں نمونہ سمجھنا چاہیے۔
- حدیث میں پہلے طواف، پھر دو رکعت، پھر سعی کی ترتیب آئی ہے۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسئلہ سمجھاتے وقت قرآن کی آیت سے رہنمائی دی۔
