صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۸ - صفا مروہ اللہ کی نشانیاں
صفا مروہ کی سعی: جاہلیت کی جھجک سے اللہ کی نشانی تک
صحیح بخاری : ۱۶۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۴۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، قال : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " كُنْتُمْ تَكْرَهُونَ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا والمروة ؟ , قال : نَعَمْ ، لِأَنَّهَا كَانَتْ مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلِيَّةِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 .
انس بن مالک روایت:
آپ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کو برا سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا، ہاں! کیونکہ یہ عہد جاہلیت کا شعار تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کو برا سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، کیونکہ یہ عہد جاہلیت کا شعار تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لیے جو حج یا عمرہ کرے اس پر ان دونوں کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ بعض لوگوں کے دل میں پہلے ایک جھجک تھی، مگر قرآن نے اسے دور کیا اور صفا مروہ کی سعی کو اللہ کی نشانیوں سے جوڑ دیا۔ یہاں بات صرف اسی مخصوص سعی اور اس آیت کے بارے میں ہے، اس لیے اسے اسی حد میں سمجھنا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ نے اپنی سابقہ جھجک کو صاف لفظوں میں بیان کیا۔
- قرآن نے صفا اور مروہ کو اللہ کی نشانیوں میں شامل بتایا۔
- حج اور عمرہ میں سعی کے بارے میں شک کو آیت کے ذریعے دور کیا گیا۔
