صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۹ - طواف اور سعی میں قوت دکھانا

طواف اور سعی میں قوت دکھانے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۴۹

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالبيت وَبَيْنَ الصَّفَا والمروة لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ " زَادَ الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، سَمِعْتُ عَطَاءً ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی اس طرح کی کہ مشرکین کو آپ اپنی قوت دکھلا سکیں۔ حمیدی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عطاء سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث سنی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک خاص وجہ بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی اس انداز سے کی کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں۔ یہاں اصل موضوع طواف میں رمل، سعی، اور اس موقع پر مسلمانوں کی مضبوطی کا اظہار ہے۔ متن میں صرف اتنی بات آئی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ عمل مشرکین کو قوت دکھانے کے لیے کیا، اس لیے اسے عام فخر یا دکھاوے کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔ حدیث کا انداز مختصر ہے، مگر یہ بتاتا ہے کہ بعض عبادات کے عمل میں بھی کسی خاص وقت پر حکمت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل میں اس موقع پر مشرکین کو قوت دکھانے کا مقصد بیان ہوا ہے۔
  • طواف اور صفا مروہ کی سعی دونوں کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔
  • حدیث کو اسی خاص واقعے اور متن کے اندر رہ کر سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں