صحیح بخاری حدیث ۱۶۵۰ - حائضہ عورت کا حج
حائضہ عورت کا حج: پاک ہونے تک طواف نہیں
صحیح بخاری : ۱۶۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۵۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " قَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , قَالَتْ : فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : افْعَلِي كَمَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي " .
عائشہ روایت:
میں مکہ آئی تو اس وقت میں حائضہ تھی۔ اس لیے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی اور نہ صفا مروہ کی سعی۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ نے فرمایا کہ جس طرح دوسرے حاجی کرتے ہیں تم بھی اسی طرح (ارکان حج) ادا کر لو ہاں بیت اللہ کا طواف پاک ہونے سے پہلے نہ کرنا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا واقعہ بیان کرتی ہیں کہ وہ مکہ آئیں تو حائضہ تھیں، اس لیے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکیں اور نہ صفا مروہ کی سعی کر سکیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اپنی پریشانی بیان کی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس طرح دوسرے حاجی کرتے ہیں، تم بھی اسی طرح اعمال حج ادا کرو، مگر بیت اللہ کا طواف پاک ہونے سے پہلے نہ کرنا۔ اس روایت کا اصل موضوع حائضہ عورت کا حج، طواف، اور پاکی کا انتظار ہے۔ حدیث میں نرمی بھی ہے اور حد بھی صاف ہے: حج کے باقی اعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن بیت اللہ کا طواف پاک ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کی حالت میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی پریشانی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے بیان کی۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں باقی حاجیوں جیسے اعمال کرنے کی اجازت دی۔
- بیت اللہ کا طواف پاک ہونے تک مؤخر کرنے کا حکم دیا گیا۔
