صحیح بخاری حدیث ۱۶۶۳ - عرفہ میں مختصر خطبہ

عرفہ میں مختصر خطبہ اور جلد وقوف: حج کی سنت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۶۳

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَى الْحَجَّاجِ أَنْ يَأْتَمَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْحَجِّ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ جَاءَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَأَنَا مَعَهُ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ أَوْ زَالَتْ ، فَصَاحَ عِنْدَ فُسْطَاطِهِ ، أَيْنَ هَذَا ؟ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : ابْنُ عُمَرَ الرَّوَاحَ ، فَقَالَ : الْآنَ ؟ , قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَنْظِرْنِي أُفِيضُ عَلَيَّ مَاءً ، فَنَزَلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَتَّى خَرَجَ ، فَسَارَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي ، فَقُلْتُ : إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ السُّنَّةَ الْيَوْمَ فَاقْصُرِ الْخُطْبَةَ ، وَعَجِّلِ الْوُقُوفَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : صَدَقَ " .

سالم بن عبداللہ روایت:

´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے کہ عبدالملک بن مروان (خلیفہ) نے حجاج کو لکھا کہ` حج کے کاموں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء کرے۔ جب عرفہ کا دن آیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئے میں بھی آپ کے ساتھ تھا، سورج ڈھل چکا تھا، آپ نے حجاج کے ڈیرے کے پاس آ کر بلند آواز سے کہا حجاج کہاں ہے؟حجاج باہر نکلا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا چل جلدی کر وقت ہو گیا۔ حجاج نے کہا ابھی سے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہاں۔ حجاج بولا کہ پھر تھوڑی مہلت دے دیجئیے، میں ابھی غسل کر کے آتا ہوں۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (اپنی سواری سے) اتر گئے۔ حجاج باہر نکلا اور میرے اور میرے والد (ابن عمر) کے بیچ میں چلنے لگا، میں نے اس سے کہا کہ آج اگر سنت پر عمل کی خواہش ہے تو خطبہ مختصر پڑھ اور وقوف میں جلدی کر۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سالم سچ کہتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں عرفہ کے دن کے عمل کا ایک صاف نقشہ ملتا ہے۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج کو لکھا کہ حج کے کاموں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرے۔ جب سورج ڈھل گیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجاج کو جلد چلنے کا کہا۔ سالم رحمہ اللہ نے حجاج سے کہا کہ اگر آج سنت پر عمل کرنا چاہتے ہو تو خطبہ مختصر پڑھو اور وقوف میں جلدی کرو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سالم نے سچ کہا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع عرفہ کا خطبہ، وقوف عرفات، سنت حج اور وقت کی پابندی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عرفہ کے دن خطبہ مختصر رکھنا سنت کے قریب عمل ہے۔
  • سورج ڈھلنے کے بعد عرفہ کے اعمال میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
  • حج کے کاموں میں علم والے صحابہ کی رہنمائی لی جاتی تھی۔
  • عبادت میں لمبی بات سے زیادہ درست عمل اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں